خوبصو رت آ نکھیں

سلیقہ تم نے پردے کا بڑا انمول رکھا ہے
یہی نگاہیں قاتل ہیں اور انہیں ہی کھول رکھا ہے ۔
تشریح
اس شعر میں شاعر محبوبہ کے پردے پر حیران ہے کہ یہ کیسا پردہ ہے ۔جس میں صرف آنکھیں نظر آرہی ہیں۔وہ حیران ا س لیے ہے کہ اس کی محبوبہ کی آنکھیں ہی صرف خوبصوت ہیں ۔باقی کے نقوش واجبی سے بھی نہیں۔ یعنی زرا سے بھی اچھے نہیں .اس کی محبوبہ کتنی چالاک ہے کہ صرف آنکھیں ہی نظرآرہی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں