میں نے تھانے میں رپورٹ لکھوا دی ۔

لکھوا کے آیا ہوں تھانے میں یہ رپورٹ مجھ کو تمھاری یا د سے جان کا خطرہ ہے تشریح اس شعر میں شاعر نے پریشانی کے عالم میں تھانے میں رپورٹ درج کرائی ہے ۔جس میں اُس نے اپنا مدعا یہ بیان کیا ہے۔ کہ چونکہ اسے محبوبہ کی یاد بہت ستاتی ہے ۔وہ ڈرتا مزید پڑھیں

میرے پاس تیرے نام کی بلی ہے .

تیرا نام سرعام پکارنے کے لیے تیرے نام کی بلی پال رکھی ہے تشریح اس شعر میں شاعر اپنے دل میں چھپے خیال کے حد شات کے بارے میں کہتا ہے ۔ کہ چونکہ وہ محبوبہ کو پکارنے کی ہمت نہیں رکھتا۔لہذا اس نے محبوبہ کے نام کی بلی پال رکھی ہے ۔اس طرح وہ مزید پڑھیں

کیا دھماکے کرنے والوں کو بیوٹی کویئن یعنی حوریں ملیں گی.

مسجد لرز گئی تھی ۔دھماکوں کے شور سے حوروں کی آرزو نے کئی گھر جلا دیے تشریح اس شعر کے مطابق شاعرکہتا ہے ۔ کہ جن لوگوں کو ماڈرن لڑکیوں سے دنیا میں بہت نفرت ہوتی ہے ۔ اُنہیں حوروں سے بڑی محبت ہوتی ہے ۔حوروں کے لیے وہ مسجد جیسی جگہ کو بھی نہیں مزید پڑھیں

زمیں پہ بیٹھ کے ہم آسماں کا سوچتے ہیں

فیس بک پر ان اشعار کو میں نے پڑھا .مجھے بہت پسند آئے .آپ کو کیسے لگے.ضروربتانا…..ان اشعار میں میں ننےتھوڑی سی تبدیلی کی ہے.زرا بتایئں تبدیلی بہتر ہے یا ایویں ہے . زمیں پہ بیٹھ کے ہم آسماں کا سوچتے ہیں جہاں پہنچ نہیں سکتے، وہاں کا سوچتے ہیں جو اپنے آپ سے غافل مزید پڑھیں

گندے ہاتھ

یہ میرا فرض بنتا ہے کہ اس کے ہاتھ دھلواؤں سنا ہے اُس نے میری زات پر کیچڑ اُچھالا ہے ۔ معزز قارئین اس شعر میں محبوب بہت سادہ دکھایا گیا ہے ۔جب کسی نے اُس کے محبوب کے بارے میں بتایا کہ تمھارا محبوب تمھاری زات پر کیچڑ اچھال رہا ہے ۔تونادان محبوب کو مزید پڑھیں

توحید کے بغیر جنت نہیں مل سکتی

علم پڑھیا ں اشرف نہ ہون جہڑے ہون اصل کمینے پیتل کدی نئیں سونا ہوندا بھاویں جُڑئیے لعل نگینے شوم تھیں کدی نئیں صدقہ ہوندا پاویں ہون لکھ خزینے بھلیابھاج توحید نئیں جنت ملدی بھاویں مریے وچ مدینے معزز قارئین بابا بھلے شاہ کہتا ہے ۔ کہ علم کی کتابیں پڑھنے سے کمینے لوگ شریف مزید پڑھیں

ما ں

پرکیا لگ گئے ۔کہ گھونسلے سے اُڑ گئے وہ پھر اکیلی رہ گئی ۔بچوں کو پال کر تشریح اس شعر میں شاعرہر ماں کی دکھ بھری کہانی سنا رہا ہے۔درد سنا رہا ہے شاعر کہتا ہے ۔کہ ماں چاہے انسان کی ہو یا کسی پرندے کی ۔جب اس کے بچے بڑے ہوجاتے ہیں تو وہ مزید پڑھیں

محبوب اور شیطان

آنکھوں میں جب کبھی تصویر آپ کی آتی ہے ۔ استغفار پڑھ لیتا ہوں طبعیت سنبھل جاتی ہے ۔ تشریح اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب ایک دن اُس کے محبوب نے اُسے شیطان کہا تو وہ سمجھ گیا۔کہ اُس اُس کا محبوب خود ایک شیطان ہے ۔کیونکہ پنجابی میں ایک قول ہے مزید پڑھیں

سجدے میں برا سوچنا

میرا اُس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں لوگ سجدوں میں بھی لوگون کا برا سوچتے ہیں۔ تشریح اس شعر میں شاعرکہتا ہے کہ میں ایک ایسے بے ایمان شہر میں رہتا ہوں جہاں کے لوگ جب نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے بجائے کسی کے مزید پڑھیں

کاش میں بیہوش ہی رہتا۔

وہ خود ہی لیے بیٹھے تھے آغوش توجہ میں بے ہوش ہی اچھا تھا ناحق مجھے ہوش آیا۔ تشریح اس شعر میں شاعر کو بہت افسوس ہے جب اُس نے بے ہوشی کاڈرامہ کیا۔ جتنی دیر وہ بے ہوش رہا اُس کی محبوبہ کی توجہ اُس کی طرف رہی ۔مگر جیسے ہی اُس نے ہوش مزید پڑھیں