محبوب اور شیطان

آنکھوں میں جب کبھی تصویر آپ کی آتی ہے ۔ استغفار پڑھ لیتا ہوں طبعیت سنبھل جاتی ہے ۔ تشریح اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب ایک دن اُس کے محبوب نے اُسے شیطان کہا تو وہ سمجھ گیا۔کہ اُس اُس کا محبوب خود ایک شیطان ہے ۔کیونکہ پنجابی میں ایک قول ہے مزید پڑھیں

سجدے میں برا سوچنا

میرا اُس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں لوگ سجدوں میں بھی لوگون کا برا سوچتے ہیں۔ تشریح اس شعر میں شاعرکہتا ہے کہ میں ایک ایسے بے ایمان شہر میں رہتا ہوں جہاں کے لوگ جب نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے بجائے کسی کے مزید پڑھیں

کاش میں بیہوش ہی رہتا۔

وہ خود ہی لیے بیٹھے تھے آغوش توجہ میں بے ہوش ہی اچھا تھا ناحق مجھے ہوش آیا۔ تشریح اس شعر میں شاعر کو بہت افسوس ہے جب اُس نے بے ہوشی کاڈرامہ کیا۔ جتنی دیر وہ بے ہوش رہا اُس کی محبوبہ کی توجہ اُس کی طرف رہی ۔مگر جیسے ہی اُس نے ہوش مزید پڑھیں

بابا گرو میت اور جعلی پیر میں کیا فرق ہے

سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا۔ جعلی پیر اور گرو میت میں فرق 1۔ گرومیت صاف ستھرا رہتا ہے ۔جبکہ ہمارا جتنا پہنچا ہوا بابا ہوگا۔ اُتنا گندا ہوگا۔اگر اس طرح کہیں کہ وہ مکمل ننگا رہے تو اس کے پوائینٹ مزید بڑھ جاتے مزید پڑھیں

کوئی تیرا نام نہیں رکھ سکتا

ہمیں اچھا نہیں لگتا کوئی بھی ہم نام تیرا کوئی تجھ سا ہو تونام بھی تجھ سا رکھے تشریح اس شعر میں شاعر لڑنے مرنے پراُتر آیا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ جو اس کے محبوب کانام ہے ۔وہ کوئی اور نہ رکھے ۔یعنی وہ چاہتا ہے کہ اس کے محبوب کے نام کے جملہ مزید پڑھیں

آنکھیں اور آئینہ

ہم فنا ہو گئے اُن کی آنکھیں دیکھ کر نہ جانے وہ آئینہ کیسے دیکھتے ہوں گے تشریح اس شعر میں شاعر بڑا پریشان ہے ۔کیونکہ شاعر نے جب سے اپنے محبوب کو دیکھا ہے ۔شاعرکی نیند حرام ہو چکی ہے ۔کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتابس محبوب کی طرف دل لگا ہوا ہے ۔وہ مزید پڑھیں

پتھر کا د ورکون سا ہے

تاریخ ہزاروں سال بس اتنی سی بدلی ہے ۔ و ہ دور تھا پتھر کا اب لوگ پتھر کے ہیں۔ تشریح شاعر کہتا ہے ۔کہ پہلے دور میں چیزیں خالص تھی ۔اور کم کم تھی ۔ یعنی سہولیات کم تھیں۔مگر لوگ مخلص تھے یعنی پتھر کادور تھا۔ یعنی لوگ پتھر رگڑ کر آگ جلاتے تھے مزید پڑھیں

طاہرالقادری اور چھانگا ما نگا

معزز قارئین مرنے کا تو ایک دن مقررہے .مگر طاہرالقادری کے دھرنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے .سردی ہو یا گرمی اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا.جیسے ہی انہیں ہوش اآتا ہے .دھرنے کا اعلان کرد یتے ہیں. جی ٹی روڈ پرقادری صاحب کا پتلی تماشہ شروع ہو چکا ہے ۔ جس مزید پڑھیں

فا تحہ احسا س مرنے پر پڑھنی چاہیے.

مارے ملک کے مایہ ناز ا دیب اشفاق احمدخان کہتے ہیں ۔کہ فاتحہ لوگوں کے مرنے پر نہیں ۔ان کے احساس کے مرنے پر پڑھنی چاہیے ۔کیونکہ لوگ مر جائیں تو صبر آجاتا ہے ۔مگر احساس مر جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے ۔ معزز قارئین احسا س زندگی کا نام ہے ۔احسا س والا مزید پڑھیں

بیوی ٹرین اور میکہ

منزل مل ہی جاتی ہے ۔بھٹک کر کہیں محروم تو وہ رہاجو گھر سے نکلا ہی نہیں تشریح اس شعر میں شاعر کہتا ہے ۔کہ میکہ جانے کے لیے اگر اُس کی بیوی ٹائم پر گھر سے نکلتی ۔تو وہ ٹرین کو پکڑ سکتے تھے ۔اگر ٹرین ہاتھ سے نکل بھی جاتی ۔توکوئی بس ہی مزید پڑھیں