اپنے حصے کا دیا جلا نا ہو گا.

خواہش سے نہیں گرتے پھل جھولی میں وقت کی شاخ کو میرے دوست ہلانا ہوگا۔ کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو برا کہنے سے اپنے حصے کا دیا خود ہی جلا نا ہو گا تشریح ان اشعار میں شاعر کہتا ہے ۔ کہ قوم کو جہالت سے نکالنا کسی ایک انسان کی زمہ داری نہیں مزید پڑھیں

خوبصورت اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

میرے ہاتھ میں قلم ۔میرے ذہن میں اُجالا مجھے کیا دبائے گا ۔ کوئی طاقتوں کا پالا مجھے فکر اَ منِ عالم ۔تجھے اپنی زات کا غم توغروب ہو ر ہا ہےَ میں طلوع ہونے والا معزز قارئین اگر اِن اشعار میں غور کریں ۔تو مجھے ان اشعار میں ملالہ یوسف زائی کا عکس نظر مزید پڑھیں

اس شعر کا مطلب کیا ہے

وہ کتابوں میں درج تھا ہی نہیں جو پڑھایا سبق زمانے نے تشریح اس شعر میں شاعرکہتا ہے۔ کہ جب اُ س نے قرآن پا ک کو سمجھا تو وہ حیران رہ گیا۔کہ مولوی صاحبان کیا کیا تبلیغ کرتے ہیں ۔جو وہ کرتے ہیں ۔وہ تو قرآن پاک میں لکھا ہوا تھاہی نہیں ۔ اورنہ مزید پڑھیں

لمبی زند گی کے راز

جا ن ڈی راک فیلر منہ میں سو نے کا چمچہ لے کر پیدا نہیں ہوا تھا اس کا بچپن اپنے خا ندان کے ہمراہ ایک زرعی فارم پر گزرا لیکن جوان ہو تے ہی اس نے نہ صرف کا روبار کو پیشے کے طور پر اپنا یا بلکہ یوں کہیے کہ وہ دو لت مزید پڑھیں

بیوی اور پستول

بیگم ہتھ پستول نئیں ہوندا فیر وی اگے بول نئیں ہوندا تشریح اس شعر مں شاعر کہتا ہے کہ بڑی حیرانگی کی بات ہے کہ کسی بیوی کے ہاتھ میں پستول نہیں ہوتا۔مگر پھر بھی شوہر اُس کے آگے بول نہیں سکتا۔ نتیجہ ۔ ہر کسی کو عزت پیاری ہوتی ہے ۔جس طرح ہر کسی مزید پڑھیں

ٹوٹے ہوئے پر

مجھ کو اُڑتا ہوا دیکھا تو پریشان لگا۔ وہ تو ٹوٹے ہوئے پر دیکھنے آیا تھا میرے تشریح اس شعر میں ایک پرندے کے خیال کو پیش کیا گیا ہے ۔ پرندہ کہتا ہے ۔کہ میرے دشمن نے مجھے اُڑتا ہوا دیکھاتو پریشان ہو گیا ۔ کیونکہ اُس نے جب مجھے ہفتہ پہلے دیکھا تھاتو مزید پڑھیں

مشرقی عورت کی ترجمانی کرنے والا بے بس شعر

پروں سے باندھ کر پتھر مجھے اُڑاتا ہے ۔ عجیب شخص ہے ۔پھر وہ تالیان بجاتا ہے ۔ تشریح اس شعر میں مشرقی عورت کی بے بسی دکھائی گئی ہے ۔کہ کیسے اُسے دین کے نام پر قید کر کے رکھا جاتا ہے اور پھر اُس سے غیرت والی زندگی کامطالبہ کیا جاتا ہے۔حالانکہ جب مزید پڑھیں

ْ کیا آپ شاعرہ کا نام بتا سکتے ہیں ۔

کیاآپ اس خوبصورت شعر کے لکھاری کا نام بتا سکتے ہیں ۔ اور کیا آپ اس کی تشریح سے متفق ہیں ۔ شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتی ہوں دل ہی کافی ہے تیری یاد میں جلنے کے لیے تشریح اس شعر میں شاعر ہ کو بڑا کنجوس دکھایا گیا ہے۔ وہ کہتی ہے۔کہ مزید پڑھیں

حقیقت یہی ہے کہ لوگ وہ مال لوٹنے میں مصروف تھے جس پہ ان کا کوئی حق نہ تھا.

ایک جلی ہوئی لاش کے ساتھ پڑی بالٹی دیکھ کر اک لمہے کے لئے دکھ ہوا ک انسانی جان ضائع ہو گئی پھر سوچا کیوں ایسا کیوں ہوا یہ حادثہ کس وجہ سے پیش آیا تو دل میں خیال ایا ک یہ جلا ہوا انسان تو کچھ بتا نہیں سکتا تو وہاں کھڑے کچھ سیانے مزید پڑھیں